برطانوی رپورٹ میں ملازمتوں اور H-1B ویزا سسٹم پر نئی بحث

برطانوی میڈیا کی ایک حالیہ رپورٹ میں ٹیک انڈسٹری میں بھرتیوں کے طریقہ کار سے متعلق کچھ خدشات سامنے آئے ہیں، جس کے بعد نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بعض پیشہ ور نیٹ ورکس میں انٹرویو سے متعلق معلومات ایک دوسرے سے شیئر کی جاتی ہیں، جو بھرتی کے عمل کو متاثر کر سکتی ہیں۔
اس رپورٹ کے بعد H-1B ویزا سسٹم پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جو غیر ملکی ہنر مند افراد کو امریکا میں کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
رپورٹ میں گوگل کے ایک سابق کنٹریکٹر کے دعووں کا بھی حوالہ دیا گیا، جس کے مطابق کچھ ملازمتیں بیرون ملک منتقل کی جا رہی ہیں۔
سابق کنٹریکٹر اسٹیون ایجنگٹن نے الزام لگایا کہ بعض صورتوں میں موجودہ ملازمین کو اپنی جگہ آنے والوں کو تربیت دینے پر مجبور کیا گیا۔
یہ صورتحال امریکا میں امیگریشن پالیسی، روزگار کے مواقع اور عالمی افرادی قوت کے کردار پر جاری بحث کو مزید تیز کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی ٹیلنٹ سے فائدہ ضرور ہوتا ہے، تاہم بھرتیوں میں شفافیت اور انصاف کو یقینی بنانا بھی نہایت ضروری ہے۔










